Kitni Sarkash Bhi Ho Sar-phiri Ye Howa Rakhna Roshan Diya

کتنی سرکش بھی ہو سرپھری یہ ہوا رکھنا روشن دیا

کتنی سرکش بھی ہو سرپھری یہ ہوا رکھنا روشن دیا

رات جب تک رہے اے مرے ہم نوا رکھنا روشن دیا

روشنی کا وظیفہ نہیں وہ چلے راستہ دیکھ کر

وہ تو آزاد ہے مثل موج صبا رکھنا روشن دیا

رات کیسی بھی ہو خوف کے چور کی گھات کیسی بھی ہو

اپنی امید کا اپنے وشواس کا رکھنا روشن دیا

شب کی بے انت ظلمت سے لڑ سکتی ہے ایک ننھی سی لو

راہ بھولے ہوؤں کو ہے بانگ درا رکھنا روشن دیا

آشنا کی صدا گھپ اندھیرے میں بن جاتی ہے روشنی

اس شب تار میں اپنی آواز کا رکھنا روشن دیا

روشنی کی شریعت میں روز ازل سے یہی درج ہے

جوت سے جوت جلتی رہے گی سدا رکھنا روشن دیا

مجھ سے امجدؔ کہا جھلملاتے ہوئے اختر شام نے

اس کو آنا ہی ہے وہ ضرور آئے گا رکھنا روشن دیا

امجد اسلام امجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(938) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Amjad Islam Amjad, Kitni Sarkash Bhi Ho Sar-phiri Ye Howa Rakhna Roshan Diya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 164 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Amjad Islam Amjad.