Jazbaat Pey Aari Loog

جذبات ” پہ آری“ لوگ

حافظ مظفر محسن جمعرات جنوری

Jazbaat Pey Aari Loog
ہمارے ایک دوست کے بہنوئی کراچی میں ایک بہت اچھے محکمے میں بہت اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ۔ ہمیں لاہور میں رہتے ہوئے اکثر کراچی کی یادستانی ہے کیونکہ اپنا دریائے راوی کراچی کے سمندر کا بالکل بھی مقابلہ نہیں کرسکتا اور پھر گرمیوں میں سمندر کی ہوا۔دیوقامت بحری جہازوں کا ادھر ادھر گھومتے پھرنا۔ جھیل سیف الملوک کے بعد جو منظر سب سے حسین لگتا ہے وہ کلفٹن کی شام کامنظر ہے اور یہ خوبصورت مناظر کی ہی کشش تھی کہ دوست نے کراچی چلنے کی دعوت دی اور ہم نے قبول کرلی۔


ریل کاتھکادینے والاسفر ، کچھ کچھ کراچی میں دہشت گردی کاخوف ہم بہنوئی صاحب کے گھر پہنچے تو واش روم سے فارغ ہوکرہلکا پھلکا ناشتہ کیااور سوگئے بڑی لمبی نیند کے بعد اٹھے ،تیار ہوئے اور کسی کام سے طارق روڈ گئے، وہی رونق وہی سج دھج خوف دور ہوا، پاکستان اور اس کے تما م شہروں کی سلامتی کی دعا مانگی اور گھر آگئے۔

(جاری ہے)


بہنوئی صاحب سے ملاقات ہوئی ان سے خوب گپ شپ ہوئی ۔

ہم نے کہا․․․․․ بھائی جان کراچی کے نوجوان کا حق بھی ہے ناں کہ انہیں پبلک سروس کمیشن کے تحت ملازمتوں میں مناسب کو ٹہ دیاجائے اور انہیں تعلیم کے لحاظ سے ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع بھی فراہم ہوں۔
ہاں ہاں ضرور بھئی ضرور ․․․․․ بلاشبہ بہت سے مسائل ہیں جو فوری طور پر حل طلب ہیں۔
باتوں باتوں میں کھانے کی ٹیبل پر پہنچ گئے اور میز پر نظر پڑی تومدتوں سے چھپا لالچ سامنے آگیا ہم نے عہد کیا کہ اتنا کھائیں گے اتنا کھائیں گے کہ کراچی والے بھائی جان کو لگ پتہ جائے گا۔

لیجئے جناب ہم نے مرغ کی ایک ٹانگ کو جوتیز دھاری خنجر کی طرح پکڑااور بوٹی کو ادھیڑنا چاہا تو جلد بازی میں آدھی ٹانگ ہاتھ سے چھوٹ کر خانساماں (جو کہ ٹیبل پرگرم گرم چباتی رکھنے آیا تھا ) کے منہ پرجالگی اور اس بے چارے کی عینک ٹوٹ گئی ․․․․․․ شکر ہے آنکھ بچ گئی ․․․․․ ورنہ اگلے چار دن ہمیں باجی کے ہاتھ کا کھانا کھانا پڑتا جس کی ” تعریف “ بھائی جان باتوں باتوں میں بڑی ناگواری سے کرچکے تھے۔


ہم شرمندہ ہوئے مگر لالچ شرمندگی پر غالب آگیااور دوسری طرف ہم نے دوست کو دیکھا تو حوصلہ بڑھا کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ ناک اور ماتھابھی قورمہ کے مصالحے سے لت پت تھے ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ بچے ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ماموں کو شوربہ میں لت پت دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ہم نے پھر ہمت کی اور نئے عزم کے ساتھ مچھلی کا ایک بڑا ساٹکڑاپکڑا اور زورآزمائی کے باعث اب کی بار بہنوئی صاحب کی عینک پھوٹتی دیکھی کہ بہنوئی صاحب ٹشوپیپر سے ہاتھ صاف کررہے تھے۔

اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہے ہم نے دوست کو بھی اشارے سے ماتھا ،ناک اور شوربے سے لت پت گردن صاف کرنے کا مشورہ دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی گویا ہم بھی خاصے مہذب ہیں اور کم کم کھاتے ہیں۔ بھائی جان نے ایک ایک آم پلیٹ میں رکھ کر ایک چھری کے ساتھ ہماری طرف بڑھا دیا اور جلدی سے اپنی پلیٹ میں رکھا آم چھری سے ہی پکڑ کر ٹکڑوں کی شکل میں کاٹنا شروع کردیا۔

شاید انہیں پتہ ہوگا کہ ہم چھری چاقو سے آم کھانا اپنی اور آم دونوں کی توہین سمجھتے ہیں۔ آلتی پالتی مار کر اس زورشور سے آم کھاتے ہیں کہ جب آم ختم ہوتے ہیں تو فرش پر چھلکوں اور گودے کی وجہ سے کافی پھسلن پیدا ہوچکی ہوتی ہے۔ ہم نے بھی ان کی تقلید کرنا چاہی تو ہتھیلی میں چھری گھس گئی۔ آم کا گودا سرخ ہونے لگاتو ہم نے دل پر پتھر رکھ کے آم اور چھری کو ایک طرف رکھا اور دوسرے ہاتھ سے زخمی ہاتھ کو اچھی طرح دبادیا کہ شاید خون بند ہوجائے ‘ ادھر دوست نے جودیکھا کہ بہنوئی صاحب کھانے کی ٹیبل سے اٹھ کر جاچکے ہیں تو اس نے بھی آموں سے کشتی شروع کر دی۔

ہم درد سے اوئی اوئی کررہے تھے مگر وہ صرف ایک آم اور صرف ایک آم اور کاوردکرتے ہوئے غڑپ چھڑاپ کی آوازیں نکالے آم پہ آم کھاتے اور انگلیاں چاٹ رہے تھے۔ اس دوران بھانجے اور بھانجیاں سمیت نوکر ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوچکنے کے بعد قہقہے لگاتے دیواروں سے ٹکڑیں ماررہے تھے ۔ ہائے ․․․․․ ہائے ․․․․ میری آنکھ ․․․․․․ دوست نے آم کے گودے سے بھرے ہاتھ دونوں آنکھوں پر رکھ لئے اور درد سے کراہنے لگا‘ میں گھبرا گیا۔

میں نے سمجھا شاید آم کاٹتے کاٹتے چھری آنکھ میں لگ گئی ہے پھر مجھے یاد آیا کہ خالد بھٹہ اور چھری سے آم کھائے یہ تو ممکن ہی نہیں ؟ وہ خود ہی بول اٹھا․․․․․ یار آنکھوں میں آم کا گودا چلاگیا ہے۔ اتنا میٹھا آم کا گودا آنکھ میں جاکر چبھنے لگتاہے ۔ شکر ہے خالد بھٹہ کے تجربے سے ہمیں یہ پتہ چل گیا بچے اور نوکر آگے آئے۔ انہوں نے خالد کو پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باورچی خانے کی طرف لے گئے۔

واش بیسن پر آم زدہ آنکھیں دھلانے کے لئے ہم بھی زخمی ہاتھ سمیت پیچھے پیچھے تھے۔
ہم سب نے باورچی خانے میں ایک اذیت ناک منظر دیکھا سچ پوچھیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ہم تھرتھر کانپنے لگے ․․․․․ کھانے کی میز پر بہنوئی صاحب جو معزز اور مہذب بن کر آدھی چپاتی کھا کر اٹھ بیٹھے تھے باورچی خانے میں انہوں نے بڑے سائز کا پریشر ککر سامنے رکھا ہوا تھا اور زمین پر آلتی پالتی مارے دونوں ہاتھوں میں مرغوں کی ایک ٹانگ پکڑے بالکل ہماری طرح ماتھا، ناک ‘ گردن سب شوربہ سے ترکھانے میں محوتھے ۔

ہمیں جواچانک سر پرکھڑے دیکھا تو چکر آگئے۔ پہلے سنجیدہ ہونا چاہا مگر جب ہمارے غیر سنجیدہ چہرے دیکھے تو زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔
اصل میں ہم سب ایک ہیں ۔ ہم پاکستانی مسلمانوں کی اولاد ہیں مگر ہم ہر حرکت انگریزوں والی کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی مادری زبان بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ انگریزی زبان بولنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔
یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اپنا کوئی بہت پیارا جدا ہوجائے تو آنکھوں میں آنسو آتے ہیں۔

کسی عزیز کے ہاں بیٹا پیدا ہو تو چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا ہے۔ لطیفہ سن کر قہقہے لگانے کو دل چاہتا ہے۔ کوئی شخص گالی دے تو گھونسہ مارنے کو دل چاہتا ہے۔ سخت بھوک لگی ہوتو روٹی پکارنا پڑتا ہے۔ کوئی شخص یا قوم ہمارے ملک ہماری دھرتی یاہمارے مذہب کو بری نظر سے دیکھے تواس کی آنکھیں نکال دینے کو دل چاہتا ہے۔
مگریہاں تو معاملہ مختلف ہے۔ ہم نے اچھے لطیفے سن کر ہنسنا چھوڑ دیا جو تعریف کے قابل نہیں ڈر خوف یا کسی مطلب کی وجہ سے اس کی بے جاتعریف کرتے ہیں۔

امریکہ جاکر کتے نہلانے کو ترجیح دیتے ہیں مگر گھر میں بیوی کا ہاتھ تک نہیں بٹاتے کہ یہ مرد کی شان کے خلاف ہے۔ “
مہنگائی آسمان سے بھی اوپر پہنچ جائے‘ جرم انتہا کو پہنچ جائے، خود کشی معمول بن جائے۔ واپڈا تنخواہ سے بھی زیادہ بل بھیج دے، فیکٹریاں بند ہوجائیں ‘ ہر دن ہزاروں بے روزگار ہوتے چلے جائیں مگر خاموش ہیں جیسے ہمارے منہ زبان نہیں۔ہم نے جذبات کو دفن کردیا ہے۔ اجتماع مسائل پر بھی خاموش ہیں حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا دشمن بڑا شاطر ہے مکارہے کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمیں خاموش رہنے کی عادت پڑ جائے اور دشمن ہمیں للکارے تو بھی خدانخواستہ ہم خاموش ہی رہیں خاموشی تو موت کا نام ہے اور ہمیں موت نہیں زندگی چاہئے ۔ زندگی ․․․․․!

Your Thoughts and Comments