Nabi SAW Ka Naam Sun Kar Angothey Chomna

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سُن کر انگوٹھے چومنا

اذان سنتے ہوئے موٴذن کے کلمات کاجواب دینے اور موٴذن کے کلمات کے بعد ان کلمات کے علاوہ کوئی اور عمل قرآن وحدیث ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمتہ اللہ علیہ سے ثابت نہیں۔

بدھ جنوری

Nabi SAW Ka Naam Sun Kar Angothey Chomna
مُبشّر احمد رَباَنی
اذان سنتے ہوئے موٴذن کے کلمات کاجواب دینے اور موٴذن کے کلمات کے بعد ان کلمات کے علاوہ کوئی اور عمل قرآن وحدیث ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمتہ اللہ علیہ سے ثابت نہیں۔ اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہوتی تھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سنتے تھے‘ انہیں جو تعلیم دی گئی تھی وہ یہ تھی۔
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” جب تم اذان سنو تو جو کلمات موٴذن کہتا ہے وہی تم بھی کہا کرو اور پھر مجھ پر درودپڑھو“۔
صحیح مسلم کی دوسری روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب موٴذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہو‘پھر جب وہ اشھد ان لاالہ الا اللہ کہے تو تم بھی اشھد ان لاالہ الا اللہ کہو‘پھر جب وہ اشھد ان محمد رسول اللہ کہے تو تم بھی اشھد ان محمد رسول اللہ کہو‘پھر جب وہ حی علی اصلوة کہے تو تم لا حول ولاقوةالا باللہ کہو‘پھر جب وہ حی علی الفلاح کہے تو تم لا حول ولاقوةالا باللہ کہو‘پھر جب وہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہو‘جب لا الہ الاللہ کہے تو تم بھی لا الہ الاللہ کہو‘جس نے جواب خلوص دل سے دیا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔


اس کے علاوہ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انگوٹھے چومنے اور آنکھیں ملنے کا حکم دیا ہو۔ نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک صحابی سے صحیح سند سے ثابت ہے ۔حتیٰ کہ ائمہ اربعہ سے کوئی اس کی سند پیش نہیں کرسکتا۔
اس صریح اور واضح حدیث کے ہوتے ہوئے (جس میں اشھد ان محمد رسول اللہ کے جواب میں صرف وہی کلمہ دہرانے کی ہی تعلیم ہے اور اس سارے جواب پر جنت کی گارنٹی ہے۔
کہیں بھی انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر ملنے کا ذکر نہیں ہے ) افسوس صد افسوس کہ لوگوں نے کہیں انگوٹھے چومنے‘ کہیں “قرة عینی“ والے الفاظ کہنے شروع کردئیے ہیں۔ یہ خود ساختہ حرکتیں اور خود ساختہ الفاظ ایسے ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ اس بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور دوسری جتنی روایات ہیں وہ سب کی سب موضوع یعنی بنا وٹی اور خود ساختہ ہیں۔

چنانچہ فقہ حنفی کی معتبر کتاب ردالمحتار293/1میں ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
”اس بارے میں جتنی بھی مرفوع روایات ہیں ایک بھی صحیح سند سے ثابت نہیں“۔
علامہ شو کانی رحمتہ اللہ علیہ نے ابن طاہر حنفی کی کتاب التذکرہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جس روایت میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انگوٹھا چومنے کا بیان کیاجاتا ہے‘ وہ صحیح نہیں ہے۔

حسن بن علی ہندی تعلیقات مشکوٰة میں لکھتے ہیں:
” موٴذن سے شہاد تین کے کلمے سنتے وقت آنکھوں پر انگوٹھے رکھنے کے بارے میں جو کچھ روایت کیا گیا ہے ان میں سے کچھ بھی صحیح نہیں “ ۔
علامہ عینی حنفی نے اس سے منع فرمایا ہے ‘ کہتے ہیں :
” اذان سننے والے کواذان کا جواب دینے کے علاوہ اور ہر عمل کو چھوڑ دینا ضروری ہے“۔

حتیٰ کہ اہل علم نے تو ان روایات کو من گھڑت اور خود ساختہ قرار دیا ہے۔ امام ابو نعیم الاصبہانی نے کہا:
علامہ سیوطی نے بھی کہا ہے:
اور جس حدیث میں ” قرة عینی “ والی عبارت ہے اس کے متعلق امام شیبانی تمییز الطیب من الخبیث میں فرماتے ہیں:
”شیخ سخاوی فرماتے ہیں کہ یہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ والی حدیث صحیح نہیں کیونکہ یہ منقطع بھی ہے اور اس کی سند میں راوی بھی مجہول ہیں “۔

امام الانبیاء کانام سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگانا یہ محبت نہیں ہے بلکہ محبت اس چیز کانام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کے لئے کائنات کی ہر چیز کو قربان کردیا جائے۔ دیکھیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر اُبھارا ہے؟ کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے۔
تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے ‘ وہ بات کرتے وقت سچ بولا کرے‘ امانت میں خیانت نہ کرے اور پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرے“یعنی قول وفعل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا تابع بن جائے۔
یعنی قول و فعل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا تابع بن جائے۔

Your Thoughts and Comments