Shair - Naqqad - Mohaqqak Or Mahir E Taleem

شاعر‘نقاد‘محقق اور ماہر تعلیم

بدھ جنوری

Shair - Naqqad - Mohaqqak Or Mahir E Taleem
غلام زہرا
ارے یہ کیا؟2020کا سورج طلوح ہونے سے قبل ہی پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی کے انتقال کی دلد وز خبر سماعتوں سے ٹکرائی۔پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی علم وادب کا درخشندہ ستارہ تھے۔وہ اردو اور سرائیکی کے ممتاز محقق،ادیب،شاعر، نقاد اور پروفیسر تھے۔ان کا اصل نام حفیظ الرحمن تھا۔وہ 1948ء میں تونسہ شریف ،ضلع ڈیرہ غازی خان،میں ملک خدا بخش محمود کے گھر پیدا ہوئے۔

ڈیرہ غازی خان سے میٹرک ،گورنمنٹ کالج ملتان سے انٹرمیڈیٹ اور اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے(اردو)کیا۔ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی زیر نگرانی جامعہ پنجاب سے سید مسعود حسن رضوی ،احوال وآثار کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔1974ء میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور مختلف کالجوں میں تعینات رہے۔

(جاری ہے)

ملتان تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور ملتان ڈویژن کے ڈائریکٹر ایجوکیشن بھی رہے۔


گورنمنٹ کالج لاہور،بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ اردو سے بھی وابستہ رہے۔ڈاکٹر طاہر تونسوی نے ملازمت کا آغاز کراچی کے ایک اسکول سے استاد کی حیثیت سے کیا۔اردو میں ایم اے کرنے کے بعد کالج میں لیکچررتعینات ہو گئے۔ابتدائی تعیناتی گورنمنٹ کالج ،ڈیرہ غازی خان میں ہوئی،بعد ازاں ملتان،لاہور،کہروڑ پکا،کبیر والا،اور میانوالی کے مختلف کالجوں میں پڑھاتے رہے،ترقی پاکر اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر ہوئے،بعد ازاں مختلف کالجوں میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

اور پھر میں ڈائریکٹر کا لجز،ملتان ہو گئے،بعد ازاں ملتان انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمین ہوئے،فیصل آباد انٹر میڈیٹ وسیکنڈری بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
مختلف علمی وتہذیبی اداروں سے وابستہ رہے،اسی دوران بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی،ملتان میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج بہاول پور کے پرنسپل کی حیثیت سے دسمبر 2007کو ریٹائر ہوئے اور جنوری2008کو سر گودھا یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا،شعبہ کی ترقی میں آپ نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیے‘وہ جامعہ سرگودھا کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔

شعبہ میں ایم فل کلاسز کا آغاز ان ہی کی کوششوں سے ہوا۔تین سال جامعہ سرگودھا میں خدمات انجام دینے کے بعد آپ نے فیصل آباد یونیورسٹی میں خدمات کا آغاز کیا۔ڈاکٹر طاہر تونسوی طبعاً شاعر اور تخلیقی فنکار تھے،شعر کہنا ان کی جبلت اور فطرت میں شامل ہے۔ان کے ادبی سفر کا آغاز شاعری ہی سے ہوا،ابتداء میں استاد فیض تونسوی سے اصلاح لی۔پہلا شعر31سال کی عمر میں کہا جب وہ میٹرک میں تھے۔

یہ نظم بچوں کے لئے تھی،اس نظم کا ایک مصرع ملا حظہ کیجیے:
میں ڈاکٹر بنوں گا جب میں جوان ہوں گا
ابا سے پیسے لے کر دوائی میں مفت دوں گا
ڈاکٹر طاہر تونسوی نے شاعر کی حیثیت سے ہی ادبی سفر کا آغاز کیا۔دوران تعلیم ڈاکٹر سلیم اختر،ڈاکٹر وحید قریشی اور خواجہ محمد زکریا جیسے اردو کے اعلیٰ پائے کے اساتذہ کی سر پرستی حاصل ہوئی اور عرش صدیقی جیسے پائے کی شخصیت نے ان کا حوصلہ بلند کیا۔

تحقیق وتنقید کی جانب مائل ہونے کی وجوہ بقول ڈاکٹر تونسوی” استاد ڈاکٹر سلیم اختر کے کہنے پر کہ دو کشتیوں میں پاؤں نہ رکھوں اور شاعری کے بجائے تحقیق وتنقید کو بنیاد بناؤں تو میں نے شاعری کو ثانوی حیثیت دینا شروع کر دی‘لیکن ختم نہیں کی اور اپنی تمام تر صلاحیتیں تحقیق وتنقید پر صرف کیں۔طاہر تونسوی ایک نقاد کے طور پر مقبول تو ہوئے ہی لیکن اپنے اندر کے شاعر کو بھی جگائے رکھا،شعر کہتے رہے اور بہت خوب کہا۔


محسن نقوی نے طاہر تونسوی کی شعری صلاحیت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا کہ”طاہر تونسوی کم کم شعرکہتا ہے‘مگر سوچ سمجھ کر کہتاہے“۔شعر اور شاعر سے عقیدت طاہر تونسوی کے مزاج کا حصہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ انہیں جب پہلی مرتبہ ایم اے میں مقالہ لکھنے کا موقع ملا تو انہوں نے ملتان کے شعراء کو اپنا موضوع بنایا۔فریدیات ،تصوف اور صوفیائے کرام سے محبت اور عقیدت ڈاکٹر تونسوی کا خاندانی ورثہ ہے،آپ نے صوفیائے کرم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور تصانیف تحریر کیں ان میں’لطیف شناسی‘،’آئینہ خانہ شاہ لطیف‘،’خواجہ غلام فرید :شخصیت وفن‘،’فرمودات فرید‘،’ مطالعہ فرید کے دس سال‘،’عکس فرید‘،’خواجہ محمد ابراہیم یکپاسی اور ان کا خاندان‘شامل ہیں۔

علامہ اقبال سے ڈاکٹر طاہر تونسوی کو خاص عقیدت ہے، اقبال کے حوالہ سے ان کی متعدد کتب شائع ہوئیں ان میں’حیات اقبال‘،’اقبال اور پاکستانی ادب‘،’ ’اقبال اور مشاہیر‘،’اقبال اور سید سلیمان ندوی‘،’اقبال اور عظیم شخصیات‘،’اقبال شناسی اور نخلستان‘،’ اقبال شناسی اور النخیل‘،’اقبال شناسی اور نیرنگ خیال‘،’اقبال شناسی اور نیاز ونگار‘شامل ہیں۔


کہا جاتاہے کہ وہ احسان دانش پر کام کرنا چاہتے تھے۔اس مقصد کے لئے وہ احسان دانش کے ہمراہ اپنے استاد ڈاکٹر وحید قریشی کے پاس گئے‘لیکن ڈاکٹر وحید قریشی نے احسان دانش کو جوا ب دیا کہ آپ پر کام کرنے والے تو بہت ہیں‘ملتان کے شعراء پر کام طاہر تونسوی سے بہتر کوئی نہ کر سکے گا۔احسان دانش نے بھی اس بات سے اتفاق کیا اور تونسوی صاحب نے ڈاکٹر وحید قریشی کی زیر نگرانی”ملتان کے شعرا“ پر مقالہ قلم بند کیا۔

یہ مقالہ کتابی صورت میں شائع ہوا تو اسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔اپنے موضوع پر پہلا اور منفرد کام تھا،اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا۔ڈاکٹر وحید قریشی نے لکھا’حافظ محمود شیرانی نے پنجاب میں اردو کو جہاں چھوڑا تھا‘طاہر تونسوی نے اس کو بہت آگے بڑھایا ہے‘۔اے بی اشرف نے اس کتاب کو”ملتان کی شعری تاریخ“قرار دیا،تاج سعید کے مطابق ڈاکٹر طاہر تونسوی محنت کرنا جانتا ہے‘اپنی اس تالیف سے ملتان کو زندہ جاوید تذکرہ بنا دیا ہے“۔


ان کا شعری مجموعہ ’تو طے ہوانا“ہے۔
ڈاکٹر طاہر تونسوی نے ادیبوں اور دانش وروں پر بھی قلم اٹھایا،آپ کی تخلیق صلاحیتوں کے حوالہ سے بھارت کے معروف دانش ورخلیق انجم نے کہا کہ ’ڈاکٹر طاہر تونسوی اعلیٰ درجے کے لکھنے والوں میں ہیں۔ادب میں ان کا صاف ستھرا مذاق ہے“
ان کی مطبوعہ تصانیف میں ملتان میں اردو شاعری،اقبال اور مشاہیر ،مسعود حسن رضوی ادیب:کتابیات، مسعود حسن رضوی ادیب:حیات اور کارنامے،ڈاکٹر فرمان فتح پوری”احوال وآثار ،طنز ومزاح:تاریخ تنقید اتخاب ،تجزیے،دنیائے ادب کا عرش ،شجر سایہ دار صحرا کا،ہم سفر بگولوں کا ،رجحانات،حیات اقبال ،تذکرہ کتابوں کا ،فیض احمد فیض:تنقیدی مطالعہ، شاعر خوشنوا:فیض احمد فیض،اقبال اور سید سلیمان ندوی، تحقیق و تنقید:منظر نامہ،جہان تخلیق کا شہاب ،وہ میرا محسن وہ تیرا شاعر،نصاب تعلیم اور اکیسویں صدی، جہت ساز قلم کار:ڈاکٹر سلیم اختر ،خواجہ غلام فرید:شخصیت اور فن، عکس فرید،سرائیکی کتابیات آغاز 1993 ،اقبال اور عظیم شخصیات ،اقبال شناسی اور نخلستان،اقبال اور پاکستانی ادب، اقبال اور مشاہیر،ہم سخن فہم ہیں اور سرائیکی ادب،ریت تے روایت شامل ہیں۔


ڈاکٹر تونسوی کی علمی خدمات کو حکومت پاکستان نے سراہتے ہوئے2009میں تمغہ امتیاز سے نوازا، مختلف ادبی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی ان کو اعزازات سے نوازا گیا۔2011میں ادارہ نیاز ونگار کی جانب سے ”نشان نیاز“(نیاز فتح پوری ایوارڈ)سے نوازا گیا۔ان پر خاکے اور سوانحی مضامین بھی لکھے گئے۔آپ کی تخلیقات کا اشاریہ رابعہ سر فراز نے مرتب کیا،ڈاکٹر عامر سہیل نے ڈاکٹر طاہر تونسوی پر کتابیات مرتب کی۔

شہزاد بیگ نے”ڈاکٹر طاہر تونسوی:ایک مطالعہ‘کے عنوان سے کتاب مرتب کی،ڈاکٹر اسد فیض نے اعتبار حرف کے عنوان سے مجموعہ مرتب کیا،ڈاکٹر طاہر تونسوی کے تنقیدی مضامین کا انتخاب’فن نعت کی نئی جہت‘کے عنوان سے محمد حیات چغتائی نے مرتب کیا۔
ڈاکٹر طاہر تونسوی کی علمی کاوشوں پر جامعہ الاازہر(قاہرہ)مصر میں ایمن عبدالحلیم مصطفی احمد نے ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم کی نگرانی میں بہ عنوان’ڈاکٹر طاہر تونسوی بہ حیثیت تنقید نگار‘پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا، بھارتی یونیورسٹی سے ہزاری باغ(جھاڑکھنڈ)میں محمد عاشق خان نے بہ عنوان ’ہم عصر اردو تنقید کے فروغ میں ڈاکٹر طاہر تونسوی کی خدمات‘پرپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی،پاکستان کی تقریباً تمام ہی جامعات میں ان کی شخصیت اور علمی کا وشوں پر ایم فل اور ایم اے کی سطح پر مقالات لکھے جا چکے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں فاروق فیصل نے ڈاکٹر شفیق احمد کی نگرانی میں’ڈاکٹر طاہر تونسوی کی تحقیق وتنقید کا تجزیاتی مطالعہ‘کے عنوان سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی،سمیہ ناز نے ڈاکٹر عقیلہ شاہین کی نگرانی میں ایم اے اردو کے لئے اسلامیہ یونیورسٹی،بہاولپور میں‘ڈاکٹر طاہر تونسوی بحیثیت محقق ونقاد‘مقالہ تحریر کیا،صدف ناز نے پروفیسر فہمیدہ شیخ کی نگرانی میں ایم اے اردو کے لئے جامعہ سندھ جا مشورو میں’ادبیات اردو کے فروغ میں ڈاکٹر طاہر تونسوی کا کردار‘کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا،صائمہ تبسم منصوری نے ڈاکٹر ہلال نقوی کی نگرانی میں ایم اے اردو کے لئے جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں’ڈاکٹر طاہر تونسوی کی قلمی خدمات‘کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا ،یونیورسٹی کالج آف ایجو کیشن ملتان میں طاہرہ بی بی نے ڈاکٹر شوکت مغل کی نگرانی میں ایم اے اردو کے لئے’ڈاکٹر طاہر تونسوی کی تعلیمی خدمات‘کے موضوع پر مقالہ تحریرکیا ۔

نسرین بتول نے ڈاکٹر عقیلہ جاوید کی نگرانی میں ایم اے اردو کے لئے جامعہ بہاؤ الدین ملتان میں مقالہ تحریر کیا۔مختلف رسائل وجرائد نے ڈاکٹر طاہر تونسوی کے حوالہ سے خصوصی نمبر بھی شائع کیے:ان میں ماہ نامہ’وجدان‘لاہور،’ہم عصر ‘ملتان،’اہل قلم‘ملتان،ماہ نامہ‘شام وسحر‘اور روزنامہ’آفتاب‘ملتان شامل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-15

Your Thoughts and Comments