Bachon Ke Mashhoor Adeeb Abdulwahed Sindhi

بچوں کے مشہور ادیب عبدالواحد سندھی

ہفتہ جنوری

Bachon Ke Mashhoor Adeeb Abdulwahed Sindhi
بچوں کی اخلاقی تربیت اور دینی اقدار سے بچوں کا تعارف ایک دلچسپ موضوع رہا ہے۔اور اس کی اہمیت پیش نظر اردو زبان میں بہت قابل قدر سرمایہ موجود ہے۔ سادہ سلیس اور دلکش اسلوب کے حامل بچوں کے نامور اور منفرد ادیب عبد الواحد سندھی کے بارے میں آج ہم جانیں گے کہ وہ بچوں کے ذہن میں اپنے دلکش انداز سے مطالعے کی رغبت اورعمل کی تحریک کی سے پیدا کرتے ہیں۔

عبدالواحد سندھی صاحب نے خوب لکھا لیکن دینی موضوعات کی اہمیت کے پیش نظر ان کی چند کتابوں کا تعارف کرایا جارہا ہے۔یہ کتابیں تقسیم سے پہلے بچوں کی ذہنی نشونما کے جدید تقاضوں کے پیش نظر لکھی گئیں۔ عبدالواحد سندھی ایک ایسی تعلیمی تحریک سے وابستہ تھے۔ جس کا آغاز علی گڑھ سے ہوا اوراسے ایک آزاد مسلم نیشنل یونیورسٹی یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی اس کے بانی مولانا محمد علی جوہراور دعاگو ریشمی رومال تحریک کے بانی شیخ الہند مولانا محمود الحسن تھے، کہ انہوں نے تاسیسی تقریب میں کلیدی خطبہ دیاجس کے ابتدائی الفاظ'' میری قوم کے نونہالوں جس غم میں میری ہڈیا ں گھلی جارہی ہیں،اس کے غم خوار مجھے مسجدوں مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیادہ نظر آتے ہیں'' جامعہ ملیہ نے اپنے آغاز سے ہی بچوں کی تعلیم و تربیت پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز کی اور ادب کی دیگر اصناف کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب میں قابل ذکر اضافہ کیا۔

(جاری ہے)

اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حالات سازگار رہتے تو شاید جامعہ کا اشاعتی ادارہ اردو اکیڈمی ہماری قومی و ملی پہچان بن کر اُبھرتا۔ اسلامی تعلیمات کو بچوں کے ذہن میں راسخ کرنے کیاور اسلام کے سماجی تصورات کو عمل میں لانے کی ترغیب مسلم معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔عبدالواحد سندھی نے اس ضرورت کو اپنے دلکش اسلوب کے ذریعے بخوبی پورا کیا۔

بچوں کے ذہنوں میں دین اسلام کی سادہ اور سچی تعلیمات پر یقین اور اپنی اقدار کی اہمیت اجاگر کی۔ جہد وعمل سے عبارت یہ اسلوب نگارش ایک ایسی ذہنی تحریک کا نتیجہ تھا جس کے پیش نظر نونہالان قوم کی تربیت کے ذریعے ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر تھی۔ آج ہم ان کے اسلوب نگارش کی مثالوں سے اس بھولے بسرے لیکن منفرد ادیب اوران کے منفرد اسلوب کو جانیں گے ان کا یہ اسلوب بچوں اور نوجوانوں سے مکالمے میں مدد دے گا دینی دعوت کے دلنشیں انداز واسلوب سے واقف ہو ں گے۔

اسلامی اصطلاحات کا مفہوم،قرآنی تعلیمات،اور سیرت کی اہمیت ایک نئے انداز میں سامنے آئیگی۔ عبدالواحد سندھی آج سے 108 سال پہلے 1912میں سندھ کے ضلع پنوں عاقل کے گاؤں بھلے ڈنو میں پیدا ہوئے یاد رہے کہ اس زمانے میں یہ سکھر ضلع میں شامل تھا۔سندھ کے رہنے والے اردو کے اس صاحبِ طرز ادیب سے میرا تعارف بچوں کے لیے لکھی گئی کتاب ''اسلام کیسے شروع ہوا ''سے ہوا۔

اسلام کیسے شروع ہوا کا انتساب ان بچوں کے نام:جو اس کتاب کے پڑھنے کے بعد یہ ارادہ کرلیں کہ اپنے اچھے کاموں،اچھی باتوں اور اپنی زندگی کے اچھے نمونے سے اپنے غیرمسلم پڑوسیوں پر ظاہر کردیں گے کہ اسلام لوگوں کے لیے رحمت ہے ،اسلام دوسروں کی خدمت کرنے کا نام ہے،اسلام غریبوں،مصیبت کے ماروں،بھوکوں،ننگوں اور اپاہجوں کی مدد کرنے کا نام ہے۔

اسلام گرے ہوئے لوگوں سے محبت کرنے اور ان کو اپنا بھائی بنانے کا نام ہے۔اسی کا نام اسلام پھیلانا ہے اور یہی اسلام ہم سے چاہتا ہے۔جب ہم ایسا کریں گے، اسلام آپ ہی آپ لوگوں میں پھیلے گا۔اللہ تعالی ہم سے خوش ہوں گے،پیارے رسول ہم سے خوش ہوں گے۔ عبد الواحد سندھی کمسنی میں یتیم ہوگئے، ابتدائی تعلیم گھوٹکی کے مشہور تعلیمی مرکز ''مدرسہ قاسم العلوم'' میں حاصل کی۔

یہاں انہیں انگریزی پڑھنے کا شوق ہوگیا۔ انہوں نے مولانا دین محمد وفائی کی مدد سے عبد اللہ ہارون اسکالرشپ حاصل کیا اور، 1922 میں ہندوستان کی قومی تعلیمی تحریک کے نام سے مشہور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں داخل ہوئے، جہاں انہیں مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر محمد علی بجنوری، خواجہ عبدالحئی ڈاکٹرذاکر حسین جیسے اساتذہ ملے اورجامعہ کی آزادی پسند کھلی فضا میں قومی و ملی فکر کی تشکیل اور ترویج کے مواقع میسر آئے جس نے ان کی صلاحیتوں کو جلا ببخشی۔

آپ کا دینی جذبہ جامعہ کے ماحول میں ایک خوبصورت اسلوب بیان میں ڈھل گیا۔جہاد اور مجاہد کسے کہتے ہیں ملاحظہ کریں ۔ اسلام میں جہاد کیوں ضروری ہے:ہمارا پیارا دین ہم کوبہادر نڈر ارادہ کا پکا اور کام کرنے والابنانا چاہتا ہے مسلمان کا سب سے پہلا فرض یہی ہے کہ وہ سپاہی بنے مسلمان گھر کے اندر گھر کے باہر جنگ کے میدان میں امن کی حالت میں اپنے ساتھ دوسروں کے ساتھ بادشاہی تخت پر اور خاک کے بستر پر۔

غرض ہرجگہ اور ہر حالت میں سپاہی ہے۔اس سپاہی کو اسلام کی زبان میں مجاہد کہتے ہیں۔یعنی انسان میں جتنی اچھی صفتِیں ہوسکتی ہیں، ان سب کے مجموعے کا نام مجاہد ہے۔ (اسلام کے مشہور سپہ سالار) آپ کی اکثر کتابوں میں بچوں کے نام معنون کی گئی تحریریں سلیس سہل اور موثر پیغام ہیں۔ اوربچوں میں عمل کی تحریک پیدا کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے جامع تصور اور تاریخ اسلام کے اجتماعی تصورات کی نمائندہ ہیں۔

ذرا اسلوب کی دلکشی پر غور کریں ۔ ''جنگ بدر ایک انوکھی جنگ تھی آج تک ایسی جنگ دنیا میں نہ لڑی گئی ہوگی تم پوچھوگے کیسے ذرا غور سے سننا! بدر کی لڑائی میں باپ بیٹے کے مقابلے پر صف آراء تھااور بیٹا باپ کے۔یہ تھا اسلام سے محبت کا وہ گہرا جذبہ جس کے سامنے عزیز رشتہ داری کی کوئی حیثیت نہ تھی۔اسلام ہی ان کے لیے سب کچھ تھا۔اس لڑائی میں خدا نے مسلمانوں کو فتح دی اور مکے والوں کو شکست دی۔

سپاہیوں کا ایک ہی خیال تھا کہ اسلام کانام بلند ہو اور اس کا بول بالا ہو۔ مولانا عبدالواحد سندھی عالم اور مصنف تھے۔ وہ اردو، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی مہارت رکھتے تھے۔طالب علمی کے وقت سے ہی لکھتے تھے۔انہوں نے جامعہ ملیہ کے رسالوں میں اردو میں تاریخی، تحقیقی مضامین بھی لکھے تھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان آگئے،ابتدا میں آپ کی تحریریں عبدالواحد جامعی کے نام سے چھپتی رہیں لیکن بعد میں مشہور عالم دین اور انقلابی رہنما مولانا عبید اللہ سندھی سے متاثر ہوکر عبدالواحد سندھی کے نام سے لکھنے لگے۔

جامعہ ملیہ کے قیام دنوں میں مولانا عبید اللہ سندھی سے ایک ملاقات کے دوران، مولانا سندھی رح نے ان سے پوچھا ''رسالہ جامع میں مضمون آپ نے لکھا ہے'' ان کے اثبات پرمولانا سندھی بہت خوش ہوئے اور تعریف کی۔ مولانا عبید اللہ سندھی کی جدوجہداور ان کی قرآنی فکر سے متاثر ہوکرانہوں اسلام کے بلند تصورات کو بچوں کے ذہن نشین کرانے کے لیے موثر اور دل نشین پیرایہ بیان اختیار کیا ۔

اب تم پوچھو گے قرآن پاک کیا ہے آؤ ہم بتائیں ذرا دھیان دے کر سننا قرآن پاک ایک عزت والی کتاب ہے جو دنیا کے پالن ہار کی طرف سے اتاری گئی ہے اس میں کوئی جھوٹی بات نہیں ہے قران روشنی ہے جو بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔قرآن مایوسی کو دور کرتا ہے غریبوں کا سہارا ہے قرآن غلام پست اور بیمار قوموں کو بلندی اور طاقت بخشتا ہے، بے کسوں بے بسوں کے لیے مددگار ہے مردہ قوموں کو نئی زندگی دیتا ہے ایسی برکت والی کتاب کیسے اتری؟ اس کا حال آگے بتائیں گے۔

۔ قرآن پاک کیا سکھاتاہے:کے عنوان کے ذیل میں چند باتیں جن سے بچوں میں زندگی کی مثبت قدروں کا شعور پیدا ہوتا ہے (۱) اللہ کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (۲) نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرو (۳ )عیب جوئی کے بجائے عیب پوشی کرو (۴) بستر پر جانے سے پہلیاپنے روزانہ کاموں کا محاسبہ کرو (۵ )نماز باجماعت با ادب پڑھو (۶) رسول خدا کی زندگی کو اپنے لیے مشعل راہ بناؤ (۷) زائد از ضرورت مال کو فورامحتاجوں،رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو دو مگر ان پر احسان مت جتاؤ۔

قرآن پاک کی خصوصیات کے عنوان سے تاریخ انسانی کے سب سے پُراثر اور دیرپا انقلاب کے تاریخی اثرات و نتائج سے کیسے متعارف کرایا ہے آئیے دیکھیں: قرآن وہ کتاب ہے،جس نے انتہائی جہالت کے زمانے میں نازل ہوکر ظاہری و باطنی روشنی پھیلائی۔دنیا سے برائیاں دور کرکے علم و عدل، تہذیب و تمدن،نیکی اور پاکیزگی کا جھنڈا بلند کیا۔ قرآن وہ کتاب ہے،جس کی شرح سے سینکڑوں علوم پیدا ہوئے جس کی تفصیل تم بڑے ہوکر تارِیخ کی بڑی بڑی کتابوں میں پڑہوگے۔

قرآن وہ کتاب ہے،جس نے دنیا میں سب سے پہلے بادشاہی اور بادشاہوں کی مخالفت کی۔دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے جمہوری نظام پیش کیا اور دنیا نے وہ نظام خلافت راشدہ کے زمانے میں دیکھا۔ قرآن سرمایہ داری کے بلکل خلاف ہے۔قرآن دنیا کو مساوات کا پیغام دیتا ہے،قران نے سب سے پہلے عورتوں کی عزت اور ان کے حقوق مردوں سے منوائے قرآن نے دنیا سے غلامی کو مٹایا اور غلاموں کی آزادی کا دروازہ کھولا،قرآن وہ کتاب ہے جو ایسی تعلیم دیتی ہے جو بالکل فطرت کے مطابق ہے۔

رسول پاک: اسے مصنف نے تین مرکزی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ ’رسول پاک کون تھے؟‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں بہت اختصار کے ساتھ آپ کی سیرت بیان کی گئی ہے۔ دوسرے حصے کا عنوان ہے: ’رسول پاک کیسے تھے؟ اس میں آپ کے اخلاق حسنہ کا بیان ہے۔ تیسرا حصہ ’رسول پاک نے کیا سکھایا؟، کے عنوان سے ہے۔ اس میں ارکانِ اسلام کا مختصر بیان ہے۔ اس کتاب کی خوبی کا اندازہ ان کے مختصر پیش لفظ سے لگایا جاسکتا ہے۔

انھوں نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے: ”میں نے یہ کتاب تمہارے لیے لکھی ہے اور اسے تمھارے ہی نام سے منسوب کرتا ہوں۔ رسول پاک سب سے زیادہ تم بچوں کو چاہتے تھے اور تم بھی اپنے پیارے رسول سے ضرور محبت کرتے ہوگے۔ مگر میاں، پیارے رسول سے محبت کرنے کا مطلب بھی سمجھے؟ آؤ ہم بتائیں۔ ان کے پیارے اسلام کو دنیا میں پھیلاؤ۔ خدا تمھاری مدد کرے۔

آمین“۔ پاکستان بننے کے بعد 15 نومبر1948 وزارت آبادی پاکستان کے زیر انتظام، خبروں کے بلیٹن کا ترجمہ اردو اور سندھی میں شائع ہونے لگا۔ مولانا عبدالواحد سندھی اس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بن گئے ہیں۔ یہ ہفتہ وار شائع ہوتا تھا۔ جنوری 1950 میں، اسی بلیٹن کو خصوصی علمی اور ادبی رسالے کے لئے وزارت اطلاعات و نشریات کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس کا پہلا پرچہ فروری 1950 میں مولانا عبدالواحد سندھی کی ادارت کے تحت سامنے آیا، اس کے بعد اس نے ہر ماہ باقاعدگی سے اشاعت کرنا شروع کی۔

یہ ایک کارنامہ تھا۔ زندگی کی نئی تاریخ دراصل سندھی ادب کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سندھی ادب میں جو جمود پیدا ہوا اسے ''نئی زندگی'' نے توڑا اور مولانا نے سندھ میں نئے سندھی لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی وہ سندھی ادب کی تاریخ کی ایک اہم باب بن گئی، رشید بھٹی لکھتے ہیں: ہم عصر مصنفین اور ہمارے بعد میں آنے والے معاصر ادبی گروہوں کی حوصلہ افزائی کی (یہان تک کہ ایک مہربان استاد کی طرح لکھنے پر مجبور کیا)۔

یوں انہوں نے سندھِی ادب کوایک نئی زندگی بخشتا ہے۔ دوسرے دوست اس کو تسلیم کرِ یں یا نہ کرِیں ، لیکن میں اپنی ادبی قابلیت میں، میں مولوی صاحب کی قدر دانی ہمت افزائی، اور اساتذہ کی طرح ڈنڈے کے زورپرکام کرانے کے روئیے ہی کا احسان مانتا ہوں۔ سندھی ادب میں خواتین افسانہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں بھی مولوی صاحب کا سندھی ادب کی تاریخ میں ایک اہم مقام ہے۔

اس سلسلہ میں ثمیرا زریں مہتاب محبوب اور رشیدہ حجاب کے ناموں کو شمار کیا جاسکتا ہے، ان کے افسانے سب پہلے مولانا عبدالواحد سندھی نے ہی 'نئی زندگی' میں شائع کیے۔ مولانا عبدالواحد نے نہ صرف نئی زندگی رسالے کا آغاز کیا، بلکہ سندھی ادب میں بہترین و معیاری کتابون مین اضافے کے لیے نئی زندگی اشاعتی سلسلے کی آٹھ کتابیں جو سندھی ادب میں اہمیت رکھتی ہیں، جن میں سندھی ادب کے نمائندہ مصنفین کی تحریریں محفوظ تھیں شائع کیں۔

یہ کتابیں (1) مہران کی لہریں (2) مہران کی موجیں (3) مہران کے موتی (۴) شعراء کے سرتاج: شاہ عبد اللطیف بھٹائی (۵) منصور ثانی سچل رح (۶) سوبھوں سر گھرن (فتوحات سر مانگتی ہیں) (۷) ماک پنا رابیل۔ یہ کتاب بالترتیب سب سے زیادہ اثر رکھنے والے سید حسام الدین راشدی، ثمیرہ زرین، خدیجہ خانم داؤد پوٹو اور عطا محمد حامی نے ترتیب دیں تھیں باقی سب کام مولانا عبدالواحد سندھی نے کیا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد، ا نہوں نے سندھی ادبی سوسائٹی کے میگزین 'ادیون' میں بھی کچھ عرصہ اپنا حصہ ڈالا ۔ عبدالواحد سندھی اچھے استاد، بڑے انسان، قومی کارکن اور ادیب تھے آپ کا 3 جنوری 1988 کو کراچی میں انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ان کی باتیں کام کی باتیّں ہیں ان کی کتابوں میں موجود تعلیمات اور ان کا پیغام ہماری ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-11

Your Thoughts and Comments